Aromanish
0

کیا پیار یونہی تاوان لے گا

October 18, 2026

یعنی جو تم نے یہ کہہ دیا ہے
کہ تجھ کو چھوڑوں میں خُود کو توڑوں
جو خُواب دیکھے ہیں نہ ابد کے
وہ خُواب چھوڑوں
نقاب کرنے دوں اس ظُلم کو
تیرے ستم کو ، ہر اک قسم کو
میں بھول جاؤں سبھی باتیں
میں بھول جاؤں کہ جانتا ہوں
تمہاری آنکھوں میں جو چھپا ہے
تمہارے گھر کا پتا بھی کیا ہے
یعنی کہ خُود کو ہی بھول جاؤں
اور گنگناؤں
میں گمراہوں سے جا ملا ہوں
کیا پیار یونہی تاوان لے گا
جو کچھ ہے میرا وہ جان لے گا
یعنی کہ میں اب کچھ نہیں ہوں
یعنی کہ دھرتی کا بوجھ ہوں میں
چلو یہ مانا کہ میں نے جانا
جو تم نے مجھ سے کہا وہ سب کچھ
اک تازیانہ بہ ایں دیوانہ
یعنی کہ مجھ سے جو کچھ بھی مانگا
تمہیں دیا ہے، تمہیں گلہ ہے
کہ انتہا میں نہ مجھ کو مجھ سے الگ کروگی
نہ مجھ سے کچھ بھی تو تم کہو گی
کیا بھول بیھٹی ہو میرے ضِد کو
میری انا کو، اپنی وفا کو؟
تمہیں بتایا تو تھا یہ میں نے
تم تھک کے ہار کے گھر چلو گی
مگر تمہارا گھمنڈ تھا یہ
میں تم سے ہارا تو میں تمہارا
اور جو تم ہاری تو سب کچھ ہارا
عبث ہیں ماضی کے سارے قصئے
عبث ہیں دردوں میں اپنے حصے
قبول ہے جو کہ تم نے بولا
اگرچے تم نے نہ اس کو تولا
مگر میں کہدوں قبول ہے سب
جو کچھ کہوگی فضول ہے سب
سو تمہیں رُخصت کی ہے تمنا
چلو کہ آزاد ہو تم اب سے
نہ کوئی تم کو آواز دے گا
نہ کوئی بھی اب تمہیں ڈھونڈے گا
نہ کوئی سانسوں میں نام لے گا
نہ کوئی تم سے اب کچھ کہے گا
نہ کوئی اس دل پہ اعتبار کرے گا
تمہیں مبارک ہو جان میری
نہ تمہیں اب کوئی جاں کہے گا
ہمارا وعدہ، وعدہ رہےگا
تمہارا وعدہ، گواہ رہےگا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Be first to read and listen

New releases, audiobook drops and launch offers. No spam.