ہم لوگ ہیں مجرم یوں محبت نہ کیا کر
October 18, 2026
ہم لوگ ہیں مجرم یوں محبت نہ کیا کر
اے شہر کے باسی یوں شرارت نہ کیا کر
رکھتے ہو کیوں یہ خار تم میری راہ پر
اے پیراہہنِ پیر حفاظت نہ کیا کر
,, بچہ ہے ایک دن تو یہ بوڑھا بھی ہوگا دل،، محسن نقوی
اس ٹوٹے ہوئے دل کی بھی خدمت نہ کیا کر
جھولی میں ڈالدو ہو جتنا پیار بھی دل میں
دل مانگنے والے سے بھی نفرت نہ کیا کر
مرجائے معطر تو بہت دیر سے آنا
پر دھوپ کے کارن کچھ بھی زحمت نہ کیا کر